امریکی اخبار نے اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کی عوامی مقبولیت کا اعتراف کیا کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس فلسطینیوں کی مقبول جماعت بن چکی ہے جب کہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس عوامی تائید کھو چکے ہیں۔ ان کی عوامی مقبولیت کا گراف غزہ پر اسرائیلی حملے سے قبل ہی نیچے آگیا تھا۔ القدس اور غزہ کی پٹی کے حوالے سے ان کا ٹھوس کردار نہ ہونے کی وجہ سے فلسطینی صدر عباس سے مایوس ہوئے ہیں۔
اخباری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رام اللہ میں الامعری کیمپ میں سابق فلسطینی لیڈر یاسر عرفات کی تصاویر اور تحریک فتح کے زرد رنگ کے پرچم محمود عباس کی عوامی تائید کھو جانے کی عکاسی کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ الامعری کیمپ برسوں سے تحریک فتح کا گڑھ رہا ہے مگر فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ کے حوالے سے مقامی شہری مختلف موقف اپنا رہے ہیں اور ان کی صدر عباس کےحوالے سے سوچ بدل رہی ہے۔
اخباری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی تنظیموں بالخصوص حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام کی دفاعی صلاحیت پر خود فلسطینی بھی حیران ہیں۔
امریکی اخبار لکھتا ہے کہ غزہ کے بعد غرب اردن میں بڑی تعداد میں فلسطینی ایسے مظاہروں میں شرکت کررہے ہیں جو حماس کی طرف سے بلائے گئے ہوتے ہیں۔ غرب اردن میں نکالی جانے والی ریلیوں میں حماس کے پرچم اٹھانے والوں کی تعداد میں اضافہ منظر نامے میں غیر مسبوق تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ اور تحریک فتح کی عوامی مقبولیت میں غیرمعمولی کمی آئی ہے جب کہ دوسری طرف حماس کی عوامی مقبولیت میں تیزی کے ساتھ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔