اسرائیلی حکومت نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ میں سلواد کے مقام پر فلسطینی شہریوں کی 231 ایکڑ اراضی ہتھیانے اور اسے یہودی توسیع پسندی کے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق جس اراضی کو یہودی توسیع پسندی کے مقاصد کے لیے استعمال میں لانے کی منظوری دی گئی ہے اس کے بارے میں اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ’’املاک متروکہ‘‘ میں شامل ہے اور املاک متروکہ صہیونی ریاست کے قانون کے تحت اسرائیل کی سرکاری ملکیت ہے۔
میڈٰیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام کی جانب سے غرب اردن میں املاک متروکہ کے امور کے اسرائیلی سربراہ ’’یوسی سیگال‘‘ کے دستخطوں پر مشتمل ایک اعلان نما بیان شائع ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سلواد کے مقام پر 231 ایکڑ اراضی اسرائیل کے املاک متروکہ قانون 58 مجریہ 1967ء کے تحت اسرائیل کا سرکاری رقبہ ہے جسے یہودی کالونیوں کے استعمال میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے
اعلان میں کہا گیا ہے کہ اگر مذکورہ اعلان پر کسی کو اعتراض ہے تو وہ 60 یوم کے اندر اندر رام اللہ میں اسرائیل کے املاک متروکہ بورڈ کے دفتر میں اپنی شکایت درج کرا سکتا ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت نے جبراً فلسطین سے نکالے گئے باشندوں کی جائیدادیں، اراضی اور دیگر املاک پر قبضے کے لیے ایک نام نہاد قانون بنا رکھا ہے جسے قانون املاک متروکہ کا نام دیا جاتا ہے۔ اس نام نہاد قانون کے تحت صہیونی ریاست جب چاہتی ہے فلسطینی شہریوں کی املاک پرغاصبانہ قبضے کرتی ہے۔