چهارشنبه 30/آوریل/2025

اسماعیل ھنیہ کا مزاحمت اور انتفاضہ کے موافق مضبوط بلاک کی تشکیل پر زور

منگل 19-جنوری-2021

اسلامی تحریک مزاحمت ‘حماس’  کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے تحریک انتفاضہ کے انتخاب، فلسطینی عوام کی استقامت اور مزاحمت کے تسلسل کی حمایت کے مطابق مستحکم اور مضبوط بلاک بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

سنہ 2008 میں غزہ کی پٹی پر جارحیت کی 12 ویں برسی کے موقع پر تہران میں منعقدہ "غزہ … مزاحمت کی علامت” کانفرنس میں اپنے خطاب کے دوران ھنیہ نے زور دے کر کہا کہ فلسطینی نصب العین کو لاحق خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے متفقہ اسٹریٹجک منصوبے کے مطابق ایک نیا اتحاد تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزاحمت کے آپشن کو فعال کرنے پر زور دیا اور کہا کہ فلسطینی مزاحمت غاصبوں کو ملک سے نکال باہر کرنے اور دشمن کی قید میں موجود اپنے پیاروں کو آزاد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ھنیہ کا کہنا تھا کہ  اشارہ کیا کہ مزاحمت کا انتخاب اور اس کے ذرائع کی ترقی کسی تبدیلی یا بلیک میلنگ کے تابع نہیں ہوسکتی ہے۔ فلسطینی قوم کی مزاحمت جاری ہے اور فلسطینی آج بھی اپنے حقوق کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ امریکی صدر ٹرمپ کے پیش کردہ نام نہاد ‘سنچری ڈیل’ کا مقصد فلسطینی قوم کے نصب العین کو ختم کرنا، اراضی کے الحاق (لوٹ مار) کے منصوبے کو آگے بڑھانا اس کے بعد اس قابض دشمن کے ساتھ عرب ممالک کو تعلقات معمول پر لانے پر مجبور کرنا تھا۔

حماس رہ نما نے کہا کہ فلسطینی عوام بہت سے سازشی منصوبوں سے گزر چکے ہیں۔ ٹرمپ کے دور میں ان سازشی منصوبوں میں اضافہ ہوا ہے۔

مختصر لنک:

کاپی