جرمن ڈوئچے ویلے نے مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں سمیت 5 عرب صحافیوں کو "یہود دشمنی” کے بہانے ملازمت سے معطل کر دیا۔
جرمن فاؤنڈیشن نے اس مقدمے کی تحقیقات کے لیے دو افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں سابق جرمن وزیر انصاف سبین لیوتھاؤزر شننبرگر اور فلسطینی ماہر نفسیات احمد منصور شامل ہیں۔
ڈوچے ویلے نے بیروت کے بیورو چیف، باسل العریدی، داؤد ابراہیم، معارف محمود، مرم مراقہ (مرم شحاتی ط اور فرح سالم کو معطل کیا ہے۔
جرمن ذرائع ابلاغ کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے خلاف الزامات ان تبصروں کی بنیاد پر ہیں جو انہوں نے سوشل میڈیا کے صفحات پر لکھے تھے۔ اس کے علاوہ ان کی طرف سے اپنے ورچوئل پیجز یا عرب اخبارات میں پچھلے سالوں میں شائع ہونے والے پرانے مضامین کے علاوہ جن میں سے کچھ 2000 میں شائع ہوئے تھے کو بنیاد بنایا گیا ہے۔
جرمن فاؤنڈیشن نے اپنے فیصلے کی بنیاد صحافیوں کے شائع کردہ مواد پر کی جس میں کچھ اشاعتوں پر سابقہ ٹویٹس یا پرانے تبصرے شامل تھے۔ جن میں وہ چیزیں بھی شامل تھیں جنہیں صحافیوں نے حذف کر دیا تھا۔ ان میں فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاروں کی سرگرمیوں کی مذمت کی گئی تھی۔