حال ہی میںمتحدہ عرب امارات کے ایک حکومت نواز تاجر کی جانب سے اسرائیل کے ‘بیتار یروشلم’ کلب کے حصص خرید کرنے کی خبروں کے بعد یہ خبر سامنے آئی ہے کہ القدس میں ‘بیتار یروشلم’ کی ٹیم کی کوچنگ کلاس کے دوران 100 انتہا پسند یہودیوں نے اسٹڈیم میں حملہ کردیا۔ ٹیم پر دھاوا بولنے والے یہودیوں کا کہنا ہےکہ چونکہ ‘بیتار یروشلم’ ٹیم کے مالک نے کلب کے نصف حصص اماراتی تاجرحمد بن خلیفہ النھیان کو فروخت کرنے اراہ کیا ہے۔ اس لیے وہ اس کے خلاف ہیں۔
یہودی انتہا پسندوں کا یہ اقدام اسرائیل کے ساتھ دوستی کے لیے بھاگے جانے والے اماراتی حکمرانوں کے لیے بھی واضح پیغام ہے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ انتہا پسند یہودیوں نے بیتار یروشلم ٹیم پرنہ صرف حملہ کیا بلکہ انہوں نے کلب کے مالک یہودی موشے حوگیگ اور اماراتی تاجر حمد النھیان کے خلاف بھی شدی نعرے بازے کی۔ حتیٰ کہ انتہا پسند یہودیوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بھی گستاخانہ نعرے لگائے اور آپ کی شان میں بھی غلیظ زبان استعمال کی گئی۔
یہودی انتہا پسند جو اس ٹیم کے شائقین میں شمار ہوتے ہیں "ٹیڈی” اسٹیڈیم کی دیواروں پر بیتار یروشلم کلب کے خلاف نعروں کی چاکنگ بھی کی۔
حوجیج اور النہیان نے امارات میں یہودی برادری کے سربراہ سولی ولف اور اس معاہدے میں ثالث ،یہودی تاجر نووم کوہن کی موجودگی میں پرسوں دبئی میں ایک معاہدہ کیا تھا۔
"بیتار یروشلم” ٹیم کے شائقین عربوں اور فلسطینیوں سے دشمنی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ وہ کسی بھی عرب یا مسلمان کھلاڑی کو ٹیم کی صفوں میں شامل کرنے کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے میچوں کے دوران فلسطین اور عرب مخالف نعرےبھی لگائے تھے۔ ان میں عرب مرہ باد کے نعرے شامل تھے۔
ان مداحوں نے حالیہ ہفتوں میں فرانس میں جارحانہ گستاخانہ خاکوں کے نتیجے میں پیدا ہونےوالے بحران میں فرانس گستاخوں کی حمایت کی نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین پر مبنی گانے تیار کیے گئے۔
اسرائیلی ویب سائٹوں نے بتایا ہے کہ "اسرائیل” میں فٹ بال میں اماراتی دلچسپی صرف بیتار یروشلم تک محدود نہیں ہوگی بلکہ اس میں اسپانسرشپ اور سرمایہ کاری کرنے کی کوشش کی جائےگی۔