مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام مسجد اقصیٰ اور ملائیشیا کی تاریخی جامع مسجد ’ولایۃ‘ کوجڑواں مساجد قرار دیا گیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی سپریم اسلامی کمیٹی کے چیئرمین اور مسجد اقصیٰ کے خطیب الشیخ عکرمہ صبری نے ایک بیان میں کہا کہ سپریم کمیٹی نے مسجد اقصیٰ اور ملائیشیا کی تاریخی مسجد ’ولایۃ‘ کو جڑواں مساجد قرار دینے کے تجویز کی منظوری دے دی ہے۔
الشیخ عکرمہ صبری نے یہ بات کل جمعہ کے روز مسجد ولایہ میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب میں کی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے بہت خوشی ہے کہ ہم ’MY AQSA‘ آرگنائزیشن کی مساعی سے مسجد اقصیٰ اور مسجد ولایۃ کو جڑواں مساجد قرار دینے کی تجویز سے اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملائیشیا کی تنظیم نے مجھے ذاتی طورپر کہا تھا کہ میں مسجد اقصیٰ اور مسجد ولایۃ کو جڑواں مساجد قرار دینے کے اقدام کی حمایت کروں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے الشیخ عکرمہ صبری نے ملائیشیا کی حکومت اور عوام کی طرف سے فلسطینیوں کی حمایت کو سراہا اور ان سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ نے قبلہ اول کے لیے بہت سی قربانیاں دیں۔ آپ الاقصیٰ کے محافظ ہیں۔ میں مسجد اقصیٰ کے بے پناہ محبت رکھنے پر ملائیشیا کی حکومت اورقوم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
خیال رہے کہ مسجد ولایہ کولالمپور میں واقع ہے۔ یہ مسجد 16 ویں صدی کی ایک عمارت کی جگہ تعمیر کی گئی ہے۔ اس کی تعمیر 2000ء میں مکمل ہوئی اور یہ مسجد پانچ ایکڑ رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔
مسجد میں مختلف سائز کے 22 گنبد ہیں۔ اس کے اطراف میں پانی کی نہر بہتی ہے اور مسجد میں 17 ہزار افراد کے نماز ادا کرنے کی گنجائش ہے۔