حالیہ ایام میں قابض صہیونی ریاست کی جانب سے مسجد اقصیٰ کےاطراف میں یہودی بستیوں کی تعمیرو وتوسیع کے ساتھ ساتھ کھدائیوں کا سلسلہ زیادہ شدت اختیار کرگیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق گذشتہ چند ہفتوں سے صہیونی انتہا پسند حکومت نے اموی محلات بالخصوص بستان اور سلوان کے مقامات پر کھدائیوں میں اضافہ کیا ہے۔
سلوان میں دفاع اراضی کمیٹی کے ترجمان فخری ابو دیاب نے کہا کہ حالیہ ایام کے دوران سلوان کے مقام پر یہودی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا۔خاص طور پر عین سلوان کے مقام پر اسرائیلی فوج کی کھدائیوں کا سلسلہ غیرمعمولی حد تک شدت اختیار کرگیا ہے۔
اُنہوں نے بتایا کہ اسرائیلی حکام نے عین الفوقا کے مقام کو بند کردیا جب کہ عین سلوان کے مقام پر15 مقامات پر کھدائیاں کی جا رہی ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے ابو دیاب نے کہا کہ صہیونی حکام کی طرف سے زیرزمین کھدائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ان میں العین الکبریٰ، عین مریم اور دیگر مقامات شامل ہیں۔’ سلوان ٹاؤن میں باب المغاربہ کے قریب صہیونی حکومت نے ’کیدم‘ کے نام سے ایک نیا منصوبہ شروع کیا ہے۔ یہ منصوبہ القدس کو ملانے لیے یہودیوں کے ہاں مختص دن سے ہوا ہے۔
اس کے علاوہ صہیونی ریاست نے ریل کار’تلفریک‘ کے لاجسٹک تیاری کے لیے باب الخلیل سے باب الرحمہ قبرستان تک کھدائیاں شروع کی ہیں۔ وہاں سے تھوڑا نیچے اتر کروادی الربابہ اور شہر کے مغربی حصے میں بھی کھدائیاں کی جا رہی ہیں۔
ابو دیاب بتایا کہ صہیونی حکومت نے سنہ 2019ء کے لیے القدس کا ترقیاتی بجٹ منظور کیا ہے جس کی مالیت 20 کروڑ 50 لاکھ شیکل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سنہ 1967ء کےبعد آج تک انہوں نے اس علاقے میں یہودیوں کی اس قدر سرگرمیاں نہیں دیکھی ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں فلسطینی تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ صہیونی ریاست اب بعض نئے کھدائی منصوبوں پر کام شروع کررہا ہے۔ العاد یہودی آرگنائزیشن کی نرانی میں مسجد عین سلوان کے مقام پر ایک نیا وزٹنگ پوائنٹ قائم کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد عین سلوان میں اسلامی اوقاف کی اراضی اور املاک پر قبضہ کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عین سلوان الفوقا اور الاطفال قبرستان میں تجارتی محلات کو ختم کرنے کے لیےوہاں پر پل کی تعمیر کی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد پل کے ذریعے یہودی سیاحوں کو سلوان کے مقام تک پہنچنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
فلسطینی قانون دان احمد الرویضی نے کہا کہ سلوان کے مقام پر اسرائیلی توسیع پسندانہ اور کھدائی کی سرگرمیوں کا مقصد وہاں کی فلسطینی آبادی کو وہاں سے بے دخل کرنا ہے۔ خاص طورپر وادی حلوہ، البستان اور بطن الھویٰ سے فلسطینیوں کو جبری ھجرت پر ایسے ہی مجبور کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جیسا کہ اس سے قبل راس العامود کالونی میں کیا گیا ہے۔
الرویضی نے کہا کہ صہیونی حکومت کی طرف سے وادی حلوہ کالونی کے شمال میں مسجد اقصیٰ کی طرف گھروں کی بنیادوں تلے کی گئی کھدائیوں کے لیے اسرائیلی حکومت کی یہودی انتہا پسند گروپوں کو ہرقسم کی معاونت حاصل رہی ہے۔
صہیونی حکومت کی طرف سے فلسطینی شہریوں کی بے دخلی کے لیے توسیع پسندانہ سرگرمیاں معاہدہ روم اور عالمی فوج داری عدالت کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔