قابض صہیونی حکومت نے فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس شہر میں یہودی آباد کاروں کے لیے مزید 3 ہزار مکانات کی تعمیر کی منظوری دے دی۔ یہ مکانات گرین لاین سے باہر کے مقامات پر تعمیر کیے جائیں گے۔
عبرانی میڈیا کے مطابق مذکورہ مکانات جنوب مغربی بیت المقدس میں واقع ’جیلو‘ یہودی کالونی میں تعمیر کیے جائیں گے۔
عبرانی ٹی وی کے مطابق تین ہزار مکانات کی تعمیر کے لیے 280 دونم کی فلسطینی اراضی غصب کی گئی ہے۔
بیت المقدس کے اسرائیلی ناےئب میئر اور پلاننگ کمیٹی کے سربراہ مئر ترجمان نے کہا کہ آج ہم بیت المقدس کے حوالے سے ایک تاریخی فیصلے طرف جا رہےہیں۔ آج ایک تاریخی دن ہے اور ہم نے جیلو یہودی کالونی میں ہزاروں مکانات کی تعمیر منظوری دی ہے۔
خیال رہےکہ فلسطین میں یہودی بستیوں کو عالمی برادری کی طرف سے غیرقانونی قراردیا جا چکا ہے۔ عالمی برادری یہودی بستیوں کو مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دے چکی ہے۔
14 دسمبر 2017ء کو ’ریشٹ 14‘ٹی وی نےایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ صہیونی حکومت بیت المقدس میں ’عظیم تریروشلم‘ کے پروجیکٹ کے تحت 3 لاکھ گھروں کی تعمیر کا ارادہ رکھتی ہے۔