روس کے شہر سوچی میں 14 اکتوبر سے 21 اکتوبر تک جاری رہنے والے ایک یوتھ میلے میں اسرائیلی وفد کی شرکت پر فلسطین اور عرب ممالک کے وفود نے بہ طور احتجاج بائیکاٹ کیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کے بائیکاٹ کے لیے عالم گیر مہم چلانے والی تنظیم نے روس میں جاری میلے کے عرب وفود کی جانب سے بائیکاٹ کا خیر مقدم کیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بائیکاٹ تحریک کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی اور عرب وفود کی جانب سے سوچی میں ہونے والے’یوتھ اینڈ اسٹوڈنٹ فسٹیول‘ کا اس لیے بائیکاٹ کرنا کہ اس میلے میں اسرائیلی وفد کو بھی شریک کیا گیا ہے، خوش آئند اقدام ہے۔
عالمی بائیکاٹ تحریک کا کہنا ہے کہ عرب اور فلسطینی وفود کی جانب سے صہیونی وفد کی وجہ سے سوچی میں جاری میلے میں شرکت سے انکار نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ عرب دنیا صہیونی ریاست کی سامراجیت کو تسلیم نہیں کرتی۔
روس میں یوتھ میلے میں اسرائیلی وفد کو شرکت کی دعوت دینا سامراجیت اور استعماریت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عرب ممالک کےطلباء اور نوجوانوں کے وفود کا سوچی میلے کا بائیکاٹ دنیا کے لیے یہ پیغام ہے کہ صہیونی ریاست عربوں اور اسرائیلیوں کو یکجا کرنے کے اپنے کسی ہدف میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ عرب ممالک کے مندوبین کو اسرائیلی وفد کی شرکت روکنے کے لیے بھی اقدامات کرنا چاہیے تھے۔