چهارشنبه 30/آوریل/2025

یہودی بستیاں

سال 2017ء اسرائیل نے 9 ہزار 784 دونم فلسطینی اراضی ہتھیالی

قابض صہیونی ریاست کی جانب سے فلسطینی اراضی کو ہتھیانے کا سلسلہ 2017ء کے دوران بھی پوری شدت کے ساتھ جاری رہا۔

’یہودی آباد کاری آزاد فلسطینی مُملکت کے لیے ’آلہ قتل‘!

سال 2017ء رخصت ہوا۔ گذرا سال فلسطینی قوم کے لیے کئی آزمائشوں، مصائب اور مشکلات کا سال تھا۔ نیا سال کیسا ہوگا اس کے بارے میں کچھ کہما قبل از وقت ہے، مگرقرائن بتاتے ہیں کہ رواں سال بھی فلسطینی قوم کے لیے کم گھمبیر نہیں ہوگا۔

غرب اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کے لیے ’لیکوڈ‘ کا اجلاس

اسرائیل کی شدت پسند حکمراں مذہبی یہودی جماعت ’لیکوڈ‘ نے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ کشیدگی کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے پر غور کے لیے آج خصوصی اجلاس طلب کیا ہے جس میں القدس پر مکمل فوجی کنٹرول کے لیے غور کیا جائے گا۔

بیت المقدس میں یہودیوں کے لیے 3 لاکھ نئے گھرتعمیر کرنے کا منصوبہ

اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیے جانے کے اعلان کے بعد صہیونی حکومت نے القدس میں یہودی آباد کاری کے ایک غیر مسبوق منصوبے کی تیاری شروع کی ہے۔

یہودی بستی کو غیرقانونی قرار دینے کی درخواست سماعت کے لیے منظور

فلسطینی شہریوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیل کی اعلیٰ عدالت میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں نابلس میں ’عوفرا‘ نامی یہودی کالونی اور ایک فوجی کیمپ کی تعمیر کو غیرقانونی قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسرائیلی سپریم کورٹ نے فلسطینیوں کی طرف سے دی گئی درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی ہے۔

فلسطین میں یہودی بستیاں قیام امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں:برطانیہ

برطانیہ نے اسرائیلی حکومت کی طرف سے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں میں یہودی آباد کاروں کو بسانے کے لیے 3000 گھروں کی تعمیر کی شدید مذمت کرتے ہوئے یہودی بستیوں کی توسیع کو مشرق وسطیٰ میں دیر پا قیام امن کی راہ میں رکاوٹ قرار دی ہے۔

’یہودی بستیاں فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ روکنا ہے‘

فلسطینی مرکز برائے مخطوطات کے ڈائریکٹراورسرکردہ فلسطینی تجزیہ نگارخلیل التفجکی نے کہا ہے کہ سنہ 1967ء کی چھ روزہ عرب ۔ اسرائیل جنگ کے بعد صہیونی ریاست نے ایک دن بھی یہودی آباد کاری نہیں روکی۔

فلسطینی اراضی کی دستاویزات میں جعل سازی میں اسرائیلی حکومت ملوث

تنظیم آزادی فلسطین [پی ایل او] کے زیر انتظام دفاع اراضی محکمہ کی جانب کہا گیا ہے کہ فلسطینی اراضی کو ہتھیانے کے لیے زمینوں کی دستاویزات میں جعل سازی میں اسرائیلی حکومت براہ راست ملوث ہے۔

فلسطینی اراضی پر قبضے کےصہیونی ’قانون الحاق‘ کیا ہے؟

حال ہی میں اسرائیلی پارلیمنٹ نے ایک نیا ظالمانہ قانون منظور کیا ہے جس کی رو سے حکومت کو فلسطینیوں کی نجی اراضی یہودی کالونیوں کے قیام کے لیے استعمال میں لانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

نابلس اور رام اللہ کے قریب نئی یہودی کالونی قائم کرنے کی منظوری

اسرائیلی حکومت نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس اور وسطی شہر رام اللہ کے درمیان ایک نئی یہودی کالونی بسانے کی منظوری دی ہے۔ یہ کالونی نابلس کے نواحی علاقے ’جالود‘ میں تعمیر کی جائے گی۔