لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے سیکرٹری جنرلحسن نصراللہ نے کہا ہے کہ امریکی صدر کے دورہ مشرق وسطیٰ کے دوران فلسطینیوں کےلیے کچھ نہیں۔ وہ اپنے اس دورے کے دوران خطے کے ممالک کو مزید گیس اور تیل پیداکرنے پر زور دینے اور اسرائیل کی سلامتی کے لیے اس کے ساتھ تعلقات کا دائرہ وسیع کراناچاہتے ہیں۔
سنہ 2006ء کی جنگ کے16سال مکمل ہونے پرایک ٹی وی خطاب میں حسن نصراللہ نے کہا کہ بائیڈن کے پاس فلسطینیوں کو دینے کے لیےکچھ نہیں۔ امریکا کی موجودہ حالت بالکل مختلف ہے۔ امریکی صدر بوڑھا ہے اور اس کےملک کی حالت بھی انہی کی طرح ہے جو بڑھاپے میں داخل ہوچکا ہے۔
حسن نصراللہ نے اسرائیلی وزیر دفاع کی طرف سےلبنان پرحملے کی دھمکی کے جواب میں کہا کہ بینی گینٹز اپنے آپ پر ہنس رہےہیں۔اسرائیلیوں کو پتا ہے کہ اس طرح کی باتوں کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔
انہوں نے بینی گینٹز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہتم لوگ غزہ کی ناکہ بندی کرسکتے ہو مگر وہاں داخل ہونے کی ہمت نہیں تم بیروت اورصیدا میں کیسے پہنچ سکو گے۔