دوشنبه 12/می/2025

اوباما کیخلاف تازہ اسکینڈل‘ فلسطینی پروفیسر سے روابط کا الزام

ہفتہ 1-نومبر-2008

ری پبلکن صدارتی امیدوار جان مک کین کی جانب سے بارک اوباما کے خلاف انتخابات کے آخری دنوں میں ایک تازہ اسکینڈل سامنے لایا گیا ہے جو اوباما کے انتخاب پر اثر انداز ہو سکتا ہے اس اسکینڈل کا موضوع بارک اوباما کے ایک امریکن فلسطینی سے تعلقات ہیں۔
 
اسکینڈل سے یہ تاثر پھیلانا ہے کہ بارک اوباما فلسطینیوں کے حامی اور یہودیوں کے خلاف ہیں۔ اوباما کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بارک اوباما کی جانب سے اسرائیل کی غیر مشروط حمایت اس الزام کی تردید کرتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بارک اوباما کے ایک فلسطینی نژاد امریکی پروفیسر خلیلی سے ایک عرصے سے تعلقات چلے آرہے ہیں اور دونوں کی بیویاں بھی ایک دوسرے سے ملتی رہی ہیں اور ایک تقریب میں دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو بھی ٹیپ پر ہے جو امریکی اخبار ”لاس اینجلس ٹائمز“ نے کسی سے اس وعدے کے ساتھ حاصل کی ہے کہ اسے شائع نہیں کیا جائے گا۔
 
اس نئے سنسنی خیز اسکینڈل کو انتخابات سے صرف پانچ روز قبل منظر عام پر لانے کا مقصد امریکہ میں اسرائیل دوست ووٹروں کو بارک اوباما کے خلاف کرنا ہے۔ بارک اوباما کے حریف جان مک کین نے مطالبہ کیا ہے کہ اس ٹیپ کے مندرجات منظر عام پر لائے جائیں۔
 
اوباما کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے کہ فلسطینی نژاد امریکی شہری سے بارک اوباما کا میل جول یا ملاقات کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ وہ اسرائیل یا یہودیوں کے مخالف ہیں بلکہ اسرائیل کی واضح اور غیر مشروط حمایت پر مبنی بیان اس الزام کی تردید کرتاہے۔ لہٰذا یہ الزام محض بدگمانی پیدا کرنے کیلئے لگایا گیا ہے۔ ادھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ خود ریپبلکن امیدوار سینیٹر جان مک کین نے بھی فلسطینی نژاد امریکی پروفیسر خلیلی کے گروپ کے ایک پروجیکٹ کیلئے سرکاری مالی امداد کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

مختصر لنک:

کاپی