دو ہفتے قبل ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے میں پراسرار طور پر لاپتا ہونے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے واقعے کے بعد کئی یورپی ملکوں نے سعودی عرب کے سیاسی دوروں کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فرانسیسی صدر عمانویل میکروں کے بعد ہالینڈ اور برطانیہ کے وزراء اعظم اور جرمن چانسلرانجیلا میرکل نے سعودی عرب کے سرکاری دورے منسوخ کردیے ہیں۔ ان ممالک کی طرف سے موقف سامنے آیا ہے کہ جب تک خاشقجی سے متعلق کوئی ٹھوس معلومات نہیں مل جاتیں اس وقت تک یورپی ممالک سعودی عرب کے سیاسی دوروں کا بائیکاٹ جاری رکھیں گے۔
قبل ازیں فرانسیسی صدر عمانویل میکروں نے کہا تھا کہ موجودہ حالات میں ہم نے سعودی عرب کا سرکاری دورہ منسوخ کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پورپی ملکوں کی سیاسی قیادت خاشقجی کی پراسرار گم شدگی کے معاملے پر نظریں جمائے ہوئے ہے اور ہم فی الحال سعودی عرب کے سرکاری اور سیاسی دورے نہیں کریں گے۔
فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ انہوں نے سعودی عرب کے سیاسی دورے کے بائیکاٹ کا فیصلہ برطانیہ، جرمنی اور ہالینڈ کے مشورے سے کیا ہے۔ ان ممالک کی طرف سے بھی فی الحال سیاسی اور تجارتی وفود سعودی عرب نہیں بھیجے جا رہے ہیں۔
خیال رہے کہ امریکا میں خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گذارنے والے صحافی جمال خاشقجی 2 اکتوبر کو آخری بار استنبول میں سعودی عرب کے قونصل خانے جاتے دیکھے گئے تھے۔ اس کے بعد ان کا کوئی پتا نہیں چل سکا۔ ترکی کے حکام کا کہنا ہےکہ خاشقجی کو استنبول میں سعودی قونصل خانے بلا کر قتل کردیا گیا ہے جب کہ سعودی عرب اس الزام کی تردید کرتا ہے۔ سعودیہ کا دعویٰ ہے کہ خاشقجی قونصل خانےسے چلے گئے تھے۔