روس نے فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کاررائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے تازہ کشیدگی کا ذمہ دار تل ابیب کو ٹھہرایا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق روسی حکومت کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اتوار کے روز اسرائیلی فوج کی غزہ کی پٹی میں درانداز اور سات فلسطینیوں کو شہید کرنے کا واقعہ کھلی اشتعال انگیزی اور جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
خیال رہے کی 11 نومبر اتوار کے روز اسرائیلی فوج نے سادہ گاڑیوں میں غزہ کی پٹی میں 3 کلو میٹر اندر گھس کر ایک کارروائی میں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے مقامی کمانڈر سمیت 7 فلسطینیوں کو شہید کردیا تھا۔
اس کے بعد فلسطینی مزاحمت کاروں نے صہیونی ریاست کے زیرتسلط علاقوں میں صہیونی تنصیبات پر 17 راکٹ حملے کیے جب کی قابض فوج نے غزہ میں 40 مقامات پر بمباری کی۔
روسی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کا غزہ میں گھس کر کارروائی کرنا اشتعال انگیزی ہے۔ روس کو اس کارروائی اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر گہری تشویش ہے۔
بیان میں فلسطینی مزاحمت کاروں اور اسرائیل پر زور دیا گیاہے کہ وہ جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کریں اور ضبط تحمل کامظاہرہ کرتےہوئے جنگ سے بچیں،
روس کاکہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں تازہ کشیدگی کا ذمہ دار اسرائیل ہے۔ غزہ پر حملوں کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع کا خطرہ ہے اور ماسکو موجودہ کارروائیوں کو گہری تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔