غزہ میں شہریدفاع کے سرکاری ترجمان محمود بسال نے بتایا ہے کہ شمالی غزہ کی پٹی میں جبالیہ، بیتحانون اور بیت لاہیہ کے علاقوں میں ایک لاکھ سے زائد فلسطینی مسلسل اسرائیلیمحاصرے اور بمباری کا شکار ہیں۔
بسال نے ایک پریسبیان میں زور دے کر کہا کہ قابض اسرائیلی فوج شمالی غزہ کی پٹی کے لوگوں کو خدمات فراہم کرنےکی کوشش کرنے والے ہر شخص کو قتل کر دیتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ”بہت سےلوگ ایسے ہیں جن کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے۔وہ مسلسل لاپتا ہیں۔ اسرائیلی فوجشمالی غزہ میں منظم نسل کشی کے جرم کی مرتکب ہو رہی ہے۔
محمود بسال نے کہاکہ 22 دنوں سے شمالی غزہ کی پٹی میں پانی کا ایک قطرہ یا روٹی کا ایک ٹکڑہ بھیداخل نہیں ہوا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ "شمالی غزہ کی پٹی میں جو کچھ ہو رہاہے اس کے بارے میں عالمی برادری کہاں ہے؟”۔
قابض اسرائیلی فوجنے مسلسل تئیسویں روز بھی شمالی غزہ کی پٹی میں گھروں پر بمباری کرنے اور خوراکاور ادویات کے شمال میں داخلے کو روکنے کے علاوہ شمالی غزہ کی پٹی میں تباہی اورمحاصرے کی جنگ جاری رکھی ہوئی ہے۔
شمالی غزہ کی پٹیبالخصوص جبالیہ کیمپ اور بیت لاہیہ پراجیکٹ پر اسرائیلی فضائی بمباری اور توپخانےکی بمباری بند نہیں ہوئی۔ گھروں پر بمباری اور قتل عام مسلسل جاری ہے۔
گذشتہ برس سات اکتوبرسے قابض فوج نے غزہ کی پٹی پر اپنی جارحیت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس کے نتیجےمیں 42924 فلسطینی شہری شہید اور 100833 زخمی ہوچکے ہیں۔