اقوام متحدہ کےآزاد بین الاقوامی کمیشن آف انکوائری نے کہا ہے کہ "اسرائیل غزہ کی پٹی میںصحت کی دیکھ بھال کے نظام کو تباہ کرنے کے لیے ایک منظم پالیسی پر عمل پیرا ہے، طبیکارکنوں اور تنصیبات پر جان بوجھ کر حملے کررہا ہےجو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلافجرم ہے”۔
کمیٹی نے ایک بیانمیں مزید کہا کہ "صحت کی سہولیات پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ کی پٹیمیں صحت کی دیکھ بھال کا بگڑنا صحت کے حقپر براہ راست حملے کی نمائندگی کرتا ہے، جس سے عام شہریوں بالخصوص بچوں پر منفیاثرات مرتب ہوتے ہیں”۔
انہوں نے زور دےکر کہا کہ قابض ریاست کی جیلوں میں زیر حراست بہت سے فلسطینیوں، جن میں بچے بھیشامل ہیں کے ساتھ ظالمانہ اور منظم سلوک کیا جاتا ہے، جس میں تشدد اور جنسی ہراسانیبھی شامل ہے، جو انسانیت کے خلاف جرائم تصور کیے جاتے ہیں۔
قابض اسرائیل فوج نے 370 دنوں سے امریکہ اور یورپ کےتعاون سے غزہ کی پٹی کے خلاف اپنی جارحیت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور اس کے طیاروںنے ہسپتالوں، عمارتوں، ٹاورز اور فلسطینی شہریوں کے گھروں پر بمباری کر کے انہیںانہیں قبرستان میں تبدیل کردیا ہے۔