جمہوریہ جنوبیافریقہ کے صدر سیرل رامافوسا نے اپنے ملک کی جانب سے بین الاقوامی عدالت انصاف میںاسرائیل کے خلاف دائر نسل کشی کے مقدمے میں نئے شواہد پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے پیر کوغزہ میں اسرائیلی نسل کشی کا ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر ایک بیان میں مزید کہاکہ وہ اس اکتوبر کے دوران نئے شواہد بین الاقوامی عدالت میں پیش کریں گے۔
انہوں نے زور دےکر کہا کہ ان کا ملک جو میمورنڈم "انٹرنیشنل جسٹس کورٹ” کو پیش کرے گااس میں "تفصیلی شواہد” شامل ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسرائیل نے غزہمیں فلسطینیوں کی نسل کشی کی ہے۔
فلسطینی عوام کےخلاف جارحیت کے آغاز کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے جس میں اب تک 43000 سے زیادہ جانیںجا چکی ہیں۔
رامافوسا نےاسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کیس میںجنوری، مارچ اور مئی 2024ء میں "انٹرنیشنل جسٹس” کے زیر انتظام عبوریاقدامات کے فیصلوں پر عمل درآمد کرے۔
چھبیس جنوری 2024ء کو بینالاقوامی عدالت انصاف نے جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف لائے گئے مقدمے میںعارضی اقدامات کا حکم دیا کہ وہ نسل کشی کی روک تھام کے بین الاقوامی کنونشن کیخلاف ورزی کرتا ہے۔