چهارشنبه 30/آوریل/2025

القدس میں انتخابات کے فیصلے پر پورے عزم کے ساتھ قائم رہیں گے:الرشق

منگل 6-اپریل-2021

اسلامی تحریک مزاحمت ‘حماس’ کے سیاسی شعبے کے سینیر رکن عزت الرشق نے ایک بار پھر باور کرایا ہے کہ حماس بیت المقدس میں آنے والے پارلیمانی انتخابات میں مقامی باشندوں کی بھرپور شرکت کو یقینی بنانے کے مطالبے پر قائم ہے۔ حماس کا اصرار ہے کہ بیت المقدس کے باشندوں کو 2006ء کے قانون ساز کونسل کے انتخابات کی طرح آنے والے پارلیمانی انتخابات میں بھی امیدوار کھڑے کرنے، ووٹ ڈالنے اور شہر سے فلسطینی پارلیمنٹ میں اپنی نمائندگی کا پورا پورا حق ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حماس اپنے اس مطالبے پر قائم ہے اور اس پر کوئی سودے بازی اور سمجھوتہ قبول نہیں ہوگا۔  حماس بیت المقدس کے بغیر فلسطینی علاقوں میں انتخابات کو بے معنی سمجھتی ہے۔ القدس کے باشندوں کا انتخابات میں حصہ لینا ان کا تاریخی حق اور فلسطینی قوم کی آزادی کی جدو جہد کی ایک علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر قابض صہیونی دشمن بیت المقدس کے فلسطینی باشندوں کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکے گا تو یہ القدس کے باشندوں کے آئینی اور قانونی حق پر ڈاکہ زنی کے مترادف ہوگا۔ فلسطین کی تمام قوتوں ‌کو القدس میں انتخابی میدان سجانے کا حق ہے اور فلسطینیوں کی تمام نمائندہ قوتوں کو متحد ہو کر قابض صہیونی دشمن کو فلسطینی قوم کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا  پڑے گا۔

عزت الرشق نے عرب ممالک ، عالم اسلام اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر دباو ڈالیں تاکہ وہ بیت المقدس کے فلسطینیوں کو ان کے انتخابی اور جمہوری حقوق فراہم کرنے پر مجبور ہوجائے۔

ان کا کہنا تھا کہ عالم اسلام اور عالمی برادری کو فلسطینی قوم کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا تاکہ مظلوم فلسطینی قوم آزادی کی منزل سے ہم کنار ہو سکے اور بیت المقدس کو فلسطینی مملکت کا دارالحکومت بنایا جا سکے۔ القدس ہی فلسطین کا ابدی دارالحکومت ہے اور یہی ہماری جدو جہد اور مزاحمت کا عنوان ہے۔

 

مختصر لنک:

کاپی