مسلمان اور عرب ممالک کے ممتاز علماء کرام نے اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے قیام کو انسانی تاریخ کا سنگین جرم قراردیتے ہوئے حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل دوستی سے باز رہیں۔ علماء نے مسلمان ملکوں پر زور دیا کہ وہ القدس اور مسجد اقصیٰ کے پنجہ یہود سے آزادی کے لیے جہاد کا اعلان کریں۔
مرکزاطلاعات کے مطابق افریقا اور مشرق وسطیٰ کے درجنوں ممالک کے سرکردہ علما نے ماہ صیام کے جمعۃ الوداع کے موقعے پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ سنگین نوعیت کے جرم اور خطرے کا سامنا کر رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل ہر قیمت پر مسجد اقصیٰ پر اپنا کنٹرول قائم کرنا چاہتا ہے۔تاکہ مستقبل میں فلسطینیوں اور مسلمانوں کو قبلہ اول سے محروم کرکے وہاں پر یہودیوں کے لیے ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی راہ ہموار کی جاسکے۔
علماء نے کہا ہے کہ پوری مسلم امہ قبلہ اول اورالقدس کی محافظ بن کر کھڑی ہوجائے۔ یہودی انتہا پسند اور صہیونی شیطانی طاقتیں مسجد اقصیٰ کو تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ مقدس مقام کو مسلمانوں سے چھین لینا چاہتی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پوری دنیا اس وقت کرونا کی وبا میں مشغول ہے اور اسرائیل کرونا کی آڑ سے فائدہ اٹھا کر قبلہ اول کو یہودیانے کی مذموم اور مجرمانہ سازشوں میں سرگرم عمل ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ صرف مسلمانوں کی ملکیت ہے جس میں کسی دوسرے مذہب یا ملت کا کوئی تعلق نہیں۔ اس لیے مسلمان قبلہ ول کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے کما حقہ عہد برآ ہوں اور صہیونی شیطانی طاغوتی طاقتوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے اپنے فرائض اور ذمہ داریاں پوری کریں۔