فلسطینی اتھارٹی کے ماتحت سیکیورٹی اداروں کے ایک حراستی مرکز میں پابند سلاسل ایک نوجوان فلسطینی طالب علم پروحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بیرزیت یونیورسٹی کے طالب علم محمد ناصر پر دوران حراست تشدد کے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے وزیراعظم محمد اشتیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ 9 دن سے جنرل انٹیلی جنس ادارے کے کیمپ میں زیرحراست طالب علم محمد ناصر پروحشیانہ تشدد کے واقعے کا نوٹس لیں اور طالب کو رہا کرنے کے ساتھ اس پرتشدد میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
بیرزیت یونیورسٹی کی طرف سے میڈٰیا کو ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ محمد ناصر یونیورسٹی کے آرٹس کالج میں زیرتعلیم ہے اور وہ پانچ سال قبل اسرائیلی جیل میں بھی قید کاٹ چکا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی کو اپنے وکیل کے ذریعے پتا چلا ہے کہ طالب علم محمد ناصر پر دوران قید وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اگر یہ خبر درست ہے تو یونیورسٹی اس واقعے کی فوری تحقیقات اور طالب علم کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتی ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے عباس ملیشیا کی جانب سے طلباء کو ٹیلیفون کرکے انہیں ڈرانا دھمکانا اور انہیں حراست میں لینے کے بعد تشدد کا نشانہ بنانے کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
خیال رہے کہ فلسطینی طالب علم محمد ناصر کو عباس ملیشیا نے سیاسی انتقام کی بنیاد پر نو دن قبل حراست میں لیا تھا۔ اس کے والدین نے دوران حراست اپنے بیٹے پر تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔