اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق صہیونی ریاست اور ترکی کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی اور تنائو کے بعد صہیونی ریاست نے انقرہ میں اپنا سفارتی درجہ کم کر دیا ہے۔
عبرانی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان عمانویل نحشون نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے انقرہ میں لایٹان نایہ کی جگہ نیا سفیر تعینات نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مسٹر نایہ کو ڈیڑھ سال قبل غزہ میں ہونے والے پر تشدد مظاہروں اور اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے بعد ترکی سے نکال دیا گیا تھا۔
نحشون کا مزید کہنا ہے کہ ترکی اور اسرائیل دونوں کا ایک دوسرے کے ہاں مکمل سفارتی مشن کو بحال کرنا دوطرفہ مفاد میں ہے مگر حالات کے پیش نظر اسرائیل نے ترکی میں اپنی نمائندگی محدود کر دی ہے۔
خیال رہے کہ ترکی نے گزشتہ برس انقرہ میں تعینات اپنے سفیر کو بے دخل کر دیا تھا۔ اسرائیلی سفیر کی دبے دخلی اس وقت کی گئی تھی جب اسرائیل نے غزہ میں ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 60 فلسطینیوں کو شہید کر دیا تھا۔