چهارشنبه 30/آوریل/2025

امریکا کی زیرنگرانی ‘ اسرائیل ۔ عرب دوستی ریلوے لائن’ کا منصوبہ تیار

جمعرات 8-نومبر-2018

اسرائیل کے سرکاری ریڈیو نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کو عرب ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لائن کے لیے امریکا کی زیرنگرانی ‘دوستی ریلوے لائن’ کے ایک منصوبے کی تیاری شروع کی گئی ہے۔

عبرانی ریڈیو کی رپورٹ میں‌کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو ریلوے لائن کے ذریعے اردن اور مصر سے ملانے کے ساتھ سعودی عرب سے ملانے کی تیاری جاری ہے۔ یوں یہ ریلوےلائن مشرق وسطیٰ کے دوسرے عرب ممالک متحدہ عرب امارات، بحرین، سلطنت اومان، قطر اور کویت سے گذرے گی۔

اسرائیلی ریڈیو کی جانب سے یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حال ہی میں اسرائیلی سیاست دانوں اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کے خلیجی ممالک کے دوروں کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔

گذشتہ ہفتے اسرائیلی وزیراعظم باضابطہ دعوت پر اعلیٰ اختیاراتی وفد کے ہمراہ سلطنت اومان کے دارالحکومت مسقط گئے جہاں انہوں‌نے اومانی فرمانروا سلطان قابوس بن سعید سے ملاقات کی تھی۔ اسی دوران اسرائیل کی وزیر ثقافت ایک سپورٹس وفد کے ہمراہ خلیجی ریاست متحدہ عرب امارات کے سرکاری دورے پرتھیں جہاں ابو ظہبی میں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔

تین روز قبل اسرائیلی وزیرمواصلات یسرائیل کاٹزنے خلیجی ریاست بحرین میں عالمی مواصلاتی کانفرنس میں شرکت کی۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوسری جانب امریکا کی جانب سے فلسطین ۔ اسرائیل تنازع کے حل کے لیے نام نہاد مجوزہ امن منصوبے”صدی کی ڈیل” کو فریقین کے درمیان پیش کیے جانے کی خبریں بھی گردش کررہی ہیں۔

عبرانی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی جیسن گرین بیلٹ اسرائیل کے دورے پر ہیں۔ انہوں‌نے اسرائیل کو عرب ممالک سے ریلوے لائن کے ذریعے ملانے کے منصوبے کی تجویز دی ہے اور کہا ہے کہ امریکا خود اس منصوبے کی نگرانی کرے گا۔

اسرائیلی وزیرمواصلات یسرائیل کاٹز نے "ٹوئٹر” پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کو اردن، مصر ، سعودی عرب اور دوسرے خلیجی عرب ممالک سے ملانے کا منصوبہ عن قریب پیش کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا ہم نے اس پروجیکٹ پر مذاکرات کی دعوت دی ہے۔

خیال رہے کہ اردن اور مصر کے سوا دیگر عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ براہ راست سفارتی تعلقات قائم نہیں تاہم اس کے باوجود خلیجی ملکوں اور صہیونی ریاست کے درمیان کسی نا کسی شکل میں رابطے جاری رہتے ہیں۔ یہ رابطے تجارتی، ثقافتی، کھیلوں اور دوسری شکل میں دیکھے جاتے ہیں۔

مختصر لنک:

کاپی