فلسطینی محکمہ امور اوقاف ومذہبی امور نے یہودی اشرار کے قبلہ اول پردھاووں اور صہیونی پولیس کے ہاتھوں فلسطینی شہریوں کو ہراساں کیے جانے کے اقدامات کو ’اشتعال انگیز‘ قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بیان میں مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی پولیس کی کارروائی میں قبلہ اول کے سیکیورٹی اسٹاف کے سربراہ کی گرفتاری، باب الرحمۃ کو چیک پوسٹ میں تبدیل کرنے اور مسجد اقصیٰ کی حفاظت پر مامور کارکنوں کو بے دخل کرنے کے اقدامات کو صہیونی ریاست کی مذہبی اشتعال انگیزی قرار دیا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فلسطینی حکام نے اردن کی ہاشمی مملکت سے بھی رابطہ کیا ہے عمان کو مسجد اقصیٰ میں یہودی اشرار کی کارروائیوں کے بارے میں آگاہ کرنے کے ساتھ اسرائیلی پولیس کی اشتعال انگیز کارروائیوں کی روک تھام کے لیے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا گیا۔
فلسطینی محکمہ اوقاف نے مسجد اقصیٰ کے سیکیورٹی امور کےسربراہ عبداللہ ابو طالب کی گرفتاری اور باب الرحمۃ کی چھت پر چیک پوسٹ قائم کرنے کو کھلم کھلا صہیونی اشتعال انگیزی قرار دیا۔