لبنان کی بڑی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینا صہیونی ریاست کی تباہی کا نقطہ آغاز ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے فلسطینی تنظیم حماس کے ساتھ تعلقات اب معمول پر آگئے ہیں۔
ٹی پر نشر ایک بیان میں حسن نصراللہ نے کہا کہ ان کی جماعت نے لبنان کی دیگر جماعتوں کے ساتھ صلاح مشورہ کرکے القدس کے معاملے پر اتفاق رائے پیدا کیا ہے۔ لبنان کی تمام قوتوں کا القدس کو اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت قرار دیے جانے کے حوالے سے موقف ایک ہے۔
انہوں نے کہا کہ القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینا میری نظر میں صہیونی ریاست کے خاتمے کا اعلان کرنا ہے۔ ٹرمپ کے اعلان نے فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن عمل کے نقشے کو تار تار کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ القدس نہ صرف لبنانی قوتوں بلکہ کروڑوں مسلمانوں اور مسیحی برادری کی توجہ کا مرکز ہے۔ ٹرمپ کے اعلان القدس اور لیکوڈ کی طرف سے غرب اردن کےاسرائیل سے الحاق کے بعد نام نہاد امن کا سلسلہ ختم ہوگیا ہے۔
حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ اسرائیلی قبضے کا خاتمہ مذاکرات سے ممکن نہیں۔ فلسطینیوں اور تمام مزاحمتی قوتوں کو صہیونی ریاست کے خلاف یکساں موقف اختیار کرنا ہوگا۔
حسن نصراللہ نے انکشاف کیا کہ حال ہی میں انہوں نے فلسطینی دھڑوں کی قیادت سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ ان رہ نماؤں میں تحریک فتح کے ارکان بھی شامل ہیں۔ فلسطینی دھڑوں کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں اسرائیل کے خلاف مسلح مزاحمت تیز کرنے سے اتفاق کیا گیا ہے۔
حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ ان کےاسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ساتھ کسی قسم کےاختلافات نہیں۔ حماس اور حزب اللہ کے درمیان معمول کے تعلقات قائم ہیں۔