یہودی شرپسندوں کی طرف سے مسلمانوں کے قبلہ اول پر دھاووں اور مقدس مقام کی بے حرمتی کا سلسلہ جاری ہے۔ کل اتوار کے روز اسرائیلی پولیس کی فول پروف سیکیورٹی میں 53 یہودی شرپسندوں نے مذہبی رسومات کی ادائی کی آڑ میں مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق یہودی آباد کاروں کی بڑی تعداد مسجد اقصیٰ کے مراکشی دروازے کے راستے اندر داخل ہوئی۔ اس موقع پر اسرائیلی فوج اور پولیس نے یہودی شرپسندوں کو فول پروف سیکیورٹی مہیا کر رکھی تھی۔ مسجد اقصیٰ کا یہ دروازہ سنہ1967ء کی جنگ کے بعد سے صہیونی فوج اور پولیس کی زیرتسلط ہے اور یہودی آباد کار زیادہ تر اسی دروازے سے قبلہ اول میں داخل ہو کر اس کی بے حرمتی کرتے ہیں۔
قدس پریس کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ روز قبلہ اول پر دھاوے بولنے والے یہودی اشرار میں متعدد یہودی طلباء شامل تھے۔ اس موقع پر اسرائیلی فوج نے اور پولیس نے آباد کاروں کو فول پروف سیکیورٹی مہیا کر رکھی تھی۔ یہودی آباد کار مقامی وقت کے مطابق دن گیارہ بجے قبلہ اول میں داخل ہوئے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ یہودی آباد کاروں نے مسجد میں گھس کر مذہبی رسومات کی ادائی میں اشتعال انگیز حرکات کا ارتکاب کیا۔
یہودی آباد کاروں کے ہمراہ ان کے مذہبی پیشوا موشے ویگلین نے قبلہ اول میں داخل ہونے مزعومہ ہیکل سلیمانی پر روشنی ڈالی اور یہودیوں کو تاکید کہ وہ مذہبی تعلیمات پرعمل پیرا رہتے ہوئے ہیکل سلیمانی کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔