اسرائیلی جیلوں میں پابند سلاسل فلسطینی اسیران کی جانب سے صہیونی مظالم کے خلاف فلسطینیوں کی بھوک ہڑتالوں کی خبریں تو آئے روز آتی رہتی ہیں۔ سال کا کوئی وقت ایسا کم ہی گذرتا ہے جس میں کوئی نا کوئی فلسطینی اسیر بھوک ہڑتال نہ کر رہا ہو۔ بعض اوقات فلسطینی اسیران اجتماعی بھوک ہڑتال بھی کرتے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ایک سابق فلسطینی اسیر نے اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی بھوک ہڑتالوں پر ایک کتاب تالیف کی ہے۔ کتاب کے مصنف سابق اسیر تیسیر نصراللہ کا تعلق مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس سے ہے۔ انہوں نےکتاب کے لیے ’’انتفاضہ الجوع‘‘ یعنی ’’بھوک انتفاضہ‘‘ عنوان چنا ہے۔
اس کتاب میں مصنف نے سنہ 1987 ء میں اسرائیلی جیلوں میں فلسطینیوں کی اجتماعی بھوک ہڑتال کے احوال کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ مصنف نے پانچ ابواب پر مشتمل کتاب کو 128 صفحات میں سمیٹا، جس میں خاص طور پر سنہ 1987ء کی اجتماعی بھوک ہڑتال کا احوال ہے۔ اس اجتماعی بھوک ہڑتال میں مصنف خود بھی ایک قیدی کے طور پر اس میں شامل تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے بڑی مہارت اور راز داری کے ساتھ مختلف جیلوں میں قیدیوں تک بھوک ہڑتال کا پیغام پہنچایا اور اس کے بعد اپنے مطالبات کے حق میں عملا بھوک ہڑتال کا آغاز کر دیا۔
’’انتفاضہ الجوع‘‘ کی تقریب رونمائی حال ہی میں بلاطہ پناہ گزین کیمپ میں قائم یافا کلچرل سینٹر میں منعقد ہوئی، جس میں اہم سیاسی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔