پنج شنبه 01/می/2025

صدر بنا تو اسرائیل کی بھرپور حمایت کرونگا: اوبامہ

ہفتہ 24-مئی-2008

امریکہ میں صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کے ممکنہ صدارتی امیدوار باراک اوباما نے صدر منتخب ہونے پر اسرائیل کی بھرپور حمایت کے عزم کا اظہار کیا ہے-
 امریکی ریاست فلوریڈا میں ٹائون ہال کی میٹنگ میں انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیل سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ اگر وہ امریکہ کے صدر منتخب ہوگئے تو اسرائیل کی بھرپور حمایت کریں گے- اس موقعے پر باراک اوباما نے امید کا اظہار کیا کہ ان کی عہد صدارت میں سیاہ فام امریکی اور یہودی کمیونٹی کے درمیان کشیدہ تعلقات میں بھی بہتری واقع ہوگی-
 اوباما نے زور دے کر کہا کہ وہ کسی بھی صورت فلسطینی عسکری گروپ یا حماس سے مذاکرات نہیں کریں گے- باراک اوباما ریاست فلوریڈا کے پرائمری انتخابات میں اپنی مہم نہیں چلارہے تھے کیونکہ اب ان کی صدارتی نامزدگی اپنے حتمی مرحلے میں داخل ہوچکی ہے اس لیے وہ ریاست فلوریڈا پر بھی اپنی توجہ مرکوز کررہے ہیں-
 اس کے علاوہ اوباما شام اور ایران سے بھی مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کرنے کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں جس کی وجہ سے بعض یہودی ووٹرز باراک کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جس کے بعد اب اوباما نے کہا ہے کہ وہ فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس سے مذاکرات نہیں کریں گے- مبصرین کے مطابق یہودی لابی کی حمایت حاصل کرنے کیلئے ایسے بیانات دینا اوباما ہی نہیں کسی بھی امریکی صدارتی امیدوار کی مجبوری ہوتی ہے-

 

مختصر لنک:

کاپی